:
Breaking News

آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے درمیان ایرانی تحویل میں لیا گیا جہاز، بھارتی ملاح محفوظ

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

آبنائے ہرمز میں ایرانی تحویل میں لیے گئے جہاز پر موجود بھارتی ملاح محفوظ ہے، حکومت نے تصدیق کی۔ دیگر 21 بھارتیوں والا جہاز بھی محفوظ بتایا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ حالات کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور قدرے اطمینان بخش خبر سامنے آئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی تحویل میں لیے گئے غیر ملکی تجارتی جہاز پر سوار واحد بھارتی ملاح مکمل طور پر محفوظ ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس ملاح سے رابطہ بھی قائم کیا جا چکا ہے اور اس کی خیریت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جس جہاز کو ایران نے اپنی تحویل میں لیا تھا، اسے اب نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقے کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو موجودہ حالات میں مثبت اشارہ مانا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

کشیدگی کا پس منظر اور واقعے کی شروعات

یہ پورا معاملہ 22 اپریل کو اس وقت شروع ہوا جب ایران نے خلیجی علاقے سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دو غیر ملکی کنٹینر جہازوں کو روک کر اپنی تحویل میں لے لیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک تیسرے جہاز پر فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے بعد خطے میں خطرات مزید بڑھ گئے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے یہ قدم امریکی اقدامات کے ردعمل میں اٹھایا، جہاں امریکی افواج پر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کی گئی۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسٹریٹجک مقام پر ہونے والی ہر چھوٹی بڑی پیش رفت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والے واقعات پر عالمی برادری کی گہری نظر رہتی ہے۔

بھارتی ملاح کی حفاظت کی تصدیق

بھارتی حکام کے مطابق، جس جہاز Epapinosondas پر ایک بھارتی ملاح سوار تھا، وہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور جہاز Euphoria پر موجود 21 بھارتی شہری بھی کسی خطرے میں نہیں ہیں۔

سرکاری عہدیداروں نے بتایا کہ تمام بھارتی ملاحوں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے اور ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے وزارت خارجہ بھی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

محفوظ علاقے میں منتقل کیا گیا جہاز

ابتدائی طور پر جس جہاز کو ایران نے مغربی حصے میں روکا تھا، اسے اب مشرقی سمت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مشرقی علاقہ نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کشیدگی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ایران بھی صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ کشیدگی ابھی بھی برقرار ہے۔

دیگر جہازوں کی صورتحال

اطلاعات کے مطابق ایک اور جہاز جس پر 21 بھارتی ملاح سوار ہیں، پہلے ہی محفوظ مقام پر موجود ہے۔ تاہم کچھ بھارتی جھنڈے والے جہاز اب بھی مغربی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں، جو گزشتہ چند ہفتوں سے جاری کشیدگی کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں ہیں۔

عالمی سطح پر ردعمل اور الزامات

اس واقعے کے بعد عالمی سطح پر مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ کچھ بین الاقوامی سیکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ جہاز کو گزرنے کی اجازت حاصل تھی، جبکہ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاز نے وارننگ کو نظرانداز کیا تھا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ حالیہ کشیدگی کی اصل وجہ وہ واقعہ ہے جس میں ایک ایرانی جہاز کو مبینہ طور پر امریکی افواج نے ضبط کیا تھا۔ ایران نے اسے “سمندری قزاقی” قرار دیا ہے۔

نتیجہ

آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود بھارتی ملاحوں کی حفاظت کی خبر ایک بڑی راحت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ تاہم خطے میں جاری تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا اور صورتحال کسی بھی وقت بدل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کشیدگی کا اثر عالمی تجارت اور توانائی کے شعبے پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ایسے میں تمام ممالک کی نظریں اس اہم بحری راستے پر مرکوز ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:

بہار کے سرکاری اسپتالوں میں نئی سہولت، اسٹریچر اور وہیل چیئر لازمی

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *