:
Breaking News

برگی ڈیم کروز حادثہ: وزیر اعلیٰ موہن یادو کی سخت کارروائی، منیجر معطل، متعدد اہلکار برخاست

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

جبل پور کے برگی ڈیم کروز حادثے پر وزیر اعلیٰ موہن یادو نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے منیجر کو معطل اور کئی اہلکاروں کو برخاست کر دیا، ساتھ ہی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا اعلان کیا۔

مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں واقع برگی ڈیم میں پیش آنے والے افسوسناک کروز حادثے نے پورے صوبے کو غمزدہ کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے فوری طور پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ عوامی تحفظ سے متعلق کسی بھی قسم کی غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

حادثے کے بعد وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس طلب کیا، جس میں ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کو نہایت سنجیدگی سے لیا گیا۔ بَوٹ کلب کے منتظم کو فرائض میں غفلت برتنے کے الزام میں فوری طور پر معطل کر دیا گیا، جبکہ کروز آپریشن سے وابستہ متعدد اہلکاروں کی خدمات بھی ختم کر دی گئیں۔

سرکاری فیصلے کے مطابق کروز پائلٹ، ہیلپر اور ٹکٹ کاؤنٹر کے ذمہ دار سمیت دیگر متعلقہ افراد کو ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریجنل سطح پر بھی جوابدہی طے کرتے ہوئے متعلقہ منیجر کو ہیڈکوارٹر سے منسلک کر کے ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت صرف نچلے درجے کے عملے ہی نہیں بلکہ نگرانی کے پورے نظام کو بھی جوابدہ بنانا چاہتی ہے۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو خود جبل پور پہنچے اور حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ اس دوران انہوں نے ریسکیو اور راحتی کاموں میں تیزی لانے کی بھی ہدایت دی۔

ریاستی حکومت نے اس حادثے کی غیر جانبدار اور جامع تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کمیٹی تین اہم پہلوؤں پر اپنی رپورٹ تیار کرے گی: اول، حادثے کے اسباب کیا تھے؛ دوم، وقوعہ کے وقت حالات کیسے تھے؛ اور سوم، آیا طے شدہ حفاظتی اصولوں اور ضابطوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔ رپورٹ کی بنیاد پر مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے سیاحتی سرگرمیوں، خصوصاً آبی سیاحت اور ایڈونچر اسپورٹس کے لیے ایک جامع اور سخت معیاری ضابطہ کار (SOP) تیار کیا جائے گا۔ اس کے تحت حفاظتی اصولوں کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

حکام کے مطابق اس حادثے میں اب تک نو افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اٹھائیس افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے۔ ریسکیو آپریشن میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ خصوصی ٹیموں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس سانحے کے بعد پورے مدھیہ پردیش میں غم و افسوس کی فضا قائم ہے اور ہر طبقہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہا ہے۔

ریاستی حکومت نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے چار چار لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے دو دو لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ مزید برآں، وہ افراد جنہوں نے حادثے کے دوران دوسروں کی جان بچانے میں بہادری کا مظاہرہ کیا، انہیں اکاون اکاون ہزار روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر حفاظتی ضوابط کی عدم پابندی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے کی گئی سخت کارروائی مستقبل میں سیاحتی مقامات پر حفاظتی نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ برگی ڈیم جیسے اہم سیاحتی مقام پر اس طرح کے حادثے نے انتظامیہ کے لیے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانا بے حد ضروری ہے۔ حکومت کی فوری کارروائی اور تحقیقات کا اعلان اس سمت میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *