:
Breaking News

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تجویز پر بڑا قدم، سپریم کورٹ نے ازخود پی آئی ایل کے طور پر معاملہ درج کر لیا

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سپریم کورٹ نے ایس سی بی اے کی تجویز کو پی آئی ایل کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ معاملہ ایک وکیل کی 24 گھنٹے عدالتی حراست سے متعلق ہے جس پر قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔

بھارت کی اعلیٰ عدلیہ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سپریم کورٹ نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کی ایک تجویز کو ازخود نوٹس لیتے ہوئے عوامی مفاد کی عرضی (پی آئی ایل) کے طور پر درج کر لیا ہے۔ یہ معاملہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق ہے جس میں ایک نوجوان وکیل کو مبینہ طور پر عدالتی کارروائی کے دوران 24 گھنٹے کی عدالتی حراست میں بھیجنے کے حکم نے قانونی برادری میں گہری تشویش پیدا کر دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر درج تفصیلات کے مطابق اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے لیے 15 مئی کی ممکنہ تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بار ایسوسی ایشن نے چھ مئی کو چیف جسٹس آف انڈیا سے اس واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی تھی۔

ایس سی بی اے کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عدالتی طاقت کا اظہار سختی یا خوف کے ذریعے نہیں بلکہ صبر، تحمل اور توازن کے ساتھ ہونا چاہیے، خاص طور پر ایسے نوجوان وکلا کے ساتھ جو ابھی پیشہ ورانہ تربیت کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پانچ مئی 2026 کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ میں پیش آنے والے واقعے میں جسٹس ٹی راج شیکھر راؤ کے سامنے ایک نوجوان وکیل کو مبینہ طور پر عدالت کی کارروائی کے دوران 24 گھنٹے کے لیے عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا گیا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔ اس اقدام پر قانونی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔

بار ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نوجوان وکیل کے ساتھ خوف، تذلیل یا دھمکی آمیز رویہ نہ صرف انفرادی وقار کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے عدالتی نظام اور بار و بینچ کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس لیے عدالتی ماحول میں توازن اور احترام کا برقرار رہنا انتہائی ضروری ہے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ بار اور بینچ کے درمیان تعلق ہمیشہ باہمی احترام، وقار اور ادارہ جاتی توازن پر مبنی رہا ہے اور وکیل عدالت کے افسر کے طور پر ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے عدالتوں کی عظمت اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے عدالتی اختیارات کے استعمال میں بھی تحمل، انصاف اور ہمدردی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

اسی سلسلے میں بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) نے بھی چیف جسٹس آف انڈیا سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ بی سی آئی کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر یہ دیکھا گیا کہ جج صاحب ایک نوجوان وکیل کو سختی سے مخاطب کر رہے ہیں اور اسے عدالتی حکم پیش نہ کر پانے پر ڈانٹ رہے ہیں۔

بی سی آئی کے مطابق وکیل کی بار بار معذرت اور جسمانی تکلیف کے اظہار کے باوجود جج نے سخت رویہ اختیار کیا اور مبینہ طور پر کہا کہ “اب تم سیکھو گے”۔ اس کے بعد وکیل کو 24 گھنٹے کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا گیا، جس پر قانونی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

بار کونسل آف انڈیا نے اپنے خط میں کہا ہے کہ عدالتی کارروائی میں تناسب، انصاف اور غیر جانبداری کا خیال رکھنا بنیادی اصول ہے اور کسی بھی قسم کا سخت رویہ عدلیہ کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے اس معاملے کی اعلیٰ سطح پر جانچ ضروری ہے۔

یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کی نگرانی میں آگیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر اہم قانونی بحث دیکھنے کو ملے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس بار اور بینچ کے تعلقات، عدالتی رویے اور نوجوان وکلا کے تحفظ سے متعلق ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *