:
Breaking News

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر کے دوران سیاسی ہلچل، اوم راجے نمبالکر کے بیان سے ٹھاکرے گروپ کی مشکلات بڑھیں

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

مہاراشٹر میں آپریشن ٹائیگر کے درمیان شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) گروپ کے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کے بیان سے سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ انہوں نے قیادت کی سرگرمیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) گروپ کے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کے تازہ بیان کے بعد پارٹی کے اندر ممکنہ بغاوت کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ آپریشن ٹائیگر کے نام سے جاری سیاسی سرگرمیوں کے درمیان اوم راجے نمبالکر نے پارٹی قیادت کی کارکردگی اور کارکنوں کے درمیان موجودگی کو لے کر سوال اٹھائے ہیں۔

دھاراشیو حلقے سے رکن پارلیمنٹ اوم راجے نمبالکر کا نام ان رہنماؤں میں شامل کیا جا رہا ہے جن کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شامل ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن ان کے بیانات نے مہاراشٹر کی سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔

قیادت کی سرگرمی پر اٹھائے سوال

اوم راجے نمبالکر نے کہا کہ سیاست میں عوام اور کارکنوں کے درمیان مسلسل موجود رہنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مہایوتی حکومت کے رہنماؤں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے مسلسل کارکنوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور زمینی سطح پر کام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی صحت سے متعلق مسائل کو وہ سمجھتے ہیں، لیکن آدتیہ ٹھاکرے کو تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے مزید فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔

ان کے اس بیان کو ٹھاکرے گروپ کی قیادت پر ایک اہم سیاسی تبصرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ آسان نہیں

اوم راجے نمبالکر نے کہا کہ پارٹی تبدیل کرنے کا فیصلہ ان کے لیے آسان نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ جذباتی اور سیاسی دونوں اعتبار سے پیچیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف پارٹی سے وابستگی اور پرانی یادیں ہیں، جبکہ دوسری طرف اپنے حلقے کے عوام کے کام اور سیاسی مستقبل کا سوال ہے۔

نمبالکر نے واضح کیا کہ صرف رکن پارلیمنٹ بنے رہنا کافی نہیں ہے، بلکہ اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کام کرنا اور مقامی سطح پر سیاسی مضبوطی برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ کا مسئلہ

اوم راجے نمبالکر نے اپنے حلقے میں ترقیاتی کاموں کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں، پلوں اور دیگر منصوبوں کے لیے بار بار تجاویز دی جاتی ہیں، لیکن مناسب تعاون اور فنڈ کی کمی کی وجہ سے کئی کام آگے نہیں بڑھ پاتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے بنیادی مسائل حل نہ ہوں اور مقامی انتخابات میں اپنے کارکنوں کو کامیابی نہ ملے تو مستقبل میں سیاسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

مالی فائدے اور سیکیورٹی کی خبروں کو مسترد

سیاسی حلقوں میں یہ بھی باتیں سامنے آ رہی تھیں کہ کچھ رہنما ذاتی فائدے یا سیکیورٹی جیسے معاملات کی وجہ سے پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں۔

اوم راجے نمبالکر نے ایسی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو اس کا مقصد صرف اپنے علاقے کی ترقی اور عوامی مفاد ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا فیصلہ کسی ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ سیاسی حالات اور عوامی مسائل کو دیکھتے ہوئے ہوگا۔

20 جون کے بعد کریں گے حتمی اعلان

اوم راجے نمبالکر نے کہا کہ وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہتے۔ کارکنوں سے مشورے اور کچھ اہم معاملات کو دیکھنے کے بعد ہی وہ اپنا اگلا قدم طے کریں گے۔

انہوں نے اپنے والد پون راجے نمبالکر قتل کیس سے متعلق عدالتی فیصلے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس کے بعد وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں واضح فیصلہ کریں گے۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 20 جون کے بعد وہ اپنی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کر سکتے ہیں۔

ٹھاکرے گروپ کے لیے بڑھ سکتی ہیں مشکلات

اگر اوم راجے نمبالکر سمیت دیگر کچھ ارکان پارلیمنٹ شندے گروپ کا ساتھ دیتے ہیں تو یہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا کے لیے بڑا سیاسی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔

شیوسینا میں تقسیم کے بعد ٹھاکرے گروپ پہلے ہی تنظیم کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں اہم رہنماؤں کی ناراضی پارٹی کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

دوسری جانب ایکناتھ شندے گروپ اسے اپنی سیاسی توسیع کے موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

مہاراشٹر کی سیاست میں آنے والے دن اہم مانے جا رہے ہیں۔ مقامی انتخابات اور مستقبل کے سیاسی اتحادوں کو دیکھتے ہوئے تمام جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔

اب سب کی نظریں اوم راجے نمبالکر کے اگلے قدم پر ہیں۔ 20 جون کے بعد ان کا فیصلہ مہاراشٹر کی سیاست میں نئی سمت طے کر سکتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *