:
Breaking News

بہٹا میں بڑا حادثہ: برٹانیہ بسکٹ فیکٹری میں ڈیزل ٹینک ویلڈنگ کے دوران آگ، تین مزدور جھلس کر زخمی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

بہٹا کے سکندرپور میں واقع برٹانیہ بسکٹ فیکٹری میں ڈیزل ٹینک کی ویلڈنگ کے دوران آگ لگ گئی۔ حادثے میں تین مزدور زخمی ہوئے، ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

بہٹا / عالم کی خبر:بہار کے ضلع پٹنہ کے بہٹا علاقے کے سکندرپور میں واقع میگا صنعتی پارک کیمپس میں قائم برٹانیہ بسکٹ فیکٹری میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا، جہاں ڈیزل ٹینک کی تیاری کے دوران ویلڈنگ کے عمل کے وقت اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس حادثے کے بعد پورے علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور فیکٹری احاطے میں موجود مزدوروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

یہ واقعہ اتوار کی دوپہر پیش آیا جب فیکٹری کے اندر ڈیزل ٹینک پر ویلڈنگ کا کام جاری تھا۔ اسی دوران کسی تکنیکی خرابی یا چنگاری کے باعث اچانک آگ لگ گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی۔ آگ کی لپیٹ میں آ کر تین مزدور جھلس کر شدید زخمی ہو گئے۔

حادثے کے فوراً بعد فیکٹری میں موجود دیگر مزدوروں اور مقامی افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو وہاں سے نکالا اور قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ایک مزدور کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے، جبکہ دیگر دو زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی ہے۔

زخمیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مزدور کی شناخت نندو کمار کے طور پر کی گئی ہے، جسے تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دو دیگر مزدور بھی جھلسنے کے باعث زخمی ہوئے ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔

واقعے کے بعد فیکٹری احاطے میں شدید افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ مقامی افراد نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بڑے حادثے کو ٹالنے میں مدد ملی۔ ابتدائی سطح پر ہی آگ پر قابو پا لیا گیا، ورنہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی تھی۔

ذرائع کے مطابق برٹانیہ بسکٹ فیکٹری میں یہ ڈیزل ٹینک کسی متبادل توانائی یا پیداواری نظام کے تحت تیار کیا جا رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ فیکٹری انتظامیہ نے اس کام کے لیے ایک نجی کمپنی کو ٹھیکہ دیا تھا، جس کے تحت ویلڈنگ کا عمل جاری تھا۔

حادثے کے وقت ویلڈنگ کرنے والے مزدور کے ساتھ دیگر افراد بھی قریب موجود تھے، جس کی وجہ سے آگ کی زد میں آنے سے نقصان بڑھ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ اچانک بھڑکی اور چند ہی لمحوں میں ویلڈنگ کا کام کرنے والا علاقہ اس کی لپیٹ میں آ گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر آگ پر قابو نہ پایا جاتا تو یہ حادثہ ایک بڑے صنعتی سانحے کی شکل اختیار کر سکتا تھا، کیونکہ فیکٹری کے دیگر حصوں میں بھی آتش گیر مواد موجود تھا۔

پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ابتدائی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا حفاظتی اقدامات مکمل تھے یا نہیں اور ویلڈنگ کے دوران کسی قسم کی لاپرواہی تو نہیں برتی گئی۔

فیکٹری میں کام کرنے والے دیگر مزدوروں میں بھی اس واقعے کے بعد خوف کا ماحول ہے۔ وہ انتظامیہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ صنعتی حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق صنعتی یونٹس میں ویلڈنگ جیسے کام کے دوران حفاظتی تدابیر انتہائی ضروری ہوتی ہیں، خاص طور پر جب کام آتش گیر مادوں کے قریب ہو۔ معمولی سی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھنے کو ملا۔

مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ زخمی مزدوروں کے بہتر علاج کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ حادثہ نہ صرف فیکٹری انتظامیہ بلکہ صنعتی حفاظتی نظام پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں صنعتی حفاظتی اصولوں پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ مزدوروں کی جان و مال کو محفوظ بنایا جا سکے۔

مجموعی طور پر بہٹا کی برٹانیہ بسکٹ فیکٹری میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک سنگین صنعتی حادثہ ہے، جس نے تین مزدوروں کو زخمی کر دیا ہے اور ایک بار پھر صنعتی حفاظت کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *