:
Breaking News

سرخی: مہوا میں یادو برادران کا ٹکراؤ: لالو خاندان کی سیاست میں کھلبلی مچ گئی

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

پٹنہ: بہار کی سیاست اس وقت دہک رہی ہے جب لالو پرساد یادو کے دونوں بیٹے، تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو، انتخابی میدان میں آمنے سامنے آگئے ہیں۔ مہوا کی زمین اس وقت خاندان کی سب سے بڑی سیاسی جنگ کا میدان بن چکی ہے۔

اتوار کے روز تیجسوی یادو نے آر جے ڈی امیدوار موکیش روشن کے حق میں زبردست ریلی کی۔ ان کی تقریر میں ایک پوشیدہ پیغام صاف دکھا — “ہمارے لیے پارٹی سب سے اوپر ہے، فرد نہیں۔”
یہ جملہ سیدھا اپنے بڑے بھائی تیج پرتاپ کے لیے اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جو اسی نشست سے اپنی نئی پارٹی جن شکتی جنتا دل (جے جے ڈی) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب، تیج پرتاپ نے فوراً سوشل میڈیا پر جوابی وار کی— “میری وفاداری پارٹی سے نہیں، عوام سے ہے۔ فیصلہ لوگ کریں گے کہ سچ کون ہے۔”
یہ بیان گونج بن کر بہار کی سیاست میں زلزلہ لے آیا۔

خاندانی اختلاف سے سیاسی بھونچال تک

ایک خاندانی رنجش اب پوری طرح سیاسی جنگ میں بدل چکی ہے۔ مہوا، جو کبھی آر جے ڈی کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، آج وفاداری، وراثت اور بغاوت کے مثلث میں پھنس چکا ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیجسوی کی ریلی صرف انتخابی مہم نہیں بلکہ ایک طاقت کا اعلان تھی، جب کہ تیج پرتاپ کی بغاوت انا اور خودمختاری کا اظہار ہے۔

داؤ پر ہے خاندان کی وراثت

مہوا کی گلیوں میں دونوں بھائیوں کے پوسٹر آمنے سامنے لگے ہیں — ایک ہی خاندان کے دو چہرے، لیکن الگ نظریے۔
تیجسوی کے لیے یہ لڑائی پارٹی کی قیادت کو مضبوط کرنے کی ہے، جب کہ تیج پرتاپ کے لیے یہ وجود کی جنگ بن چکی ہے۔آخرکار، مہوا کے ووٹر صرف ایک ایم ایل اے نہیں چنیں گے — وہ فیصلہ کریں گے کہ لالو کی اصل سیاسی وراثت اب کس کے پاس ہے۔
جیسا کہ ایک مقامی ووٹر نے مسکراتے ہوئے کہا، “یہ انتخاب نہیں، لالو خاندان کی گھریلو جنگ ہے — وہ بھی عوام کے بیچ!”

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *