:
Breaking News

سیوان میں سنسنی: دو نابالغ سہیلیاں 80 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیں، گھنٹوں جاری رہا ہائی وولٹیج ڈرامہ، پولیس نے بچائی جان

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سیوان میں دو نابالغ سہیلیاں محبت اور شادی کے تنازع میں 80 فٹ اونچے موبائل ٹاور پر چڑھ گئیں۔ گھنٹوں جاری ڈرامے کے بعد پولیس نے دونوں کو محفوظ نیچے اتار لیا۔

 سیوان/آلَم کی خبر:بہار کے سیوان ضلع میں منگل کی صبح اس وقت پورے علاقے میں افراتفری مچ گئی جب مہاراج گنج تھانہ علاقہ کے جِگرہواں گاؤں میں دو نابالغ لڑکیاں اچانک ایک تقریباً 80 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیں۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی لوگوں کو حیران کر دیا بلکہ چند ہی لمحوں میں پورے علاقے میں خوف اور تجسس کی فضا پیدا ہو گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق دونوں لڑکیاں آپس میں گہری سہیلیاں تھیں اور کافی عرصے سے اپنے اپنے گھروں سے ناراض چل رہی تھیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ معاملہ محبت کے تعلق اور شادی سے جڑا ہوا تھا، جہاں دونوں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی تھیں لیکن اہلِ خانہ کی مخالفت کے باعث وہ ذہنی دباؤ میں تھیں۔ اسی ناراضگی اور جذباتی کیفیت میں انہوں نے یہ خطرناک قدم اٹھا لیا۔

صبح کے وقت دونوں اچانک گاؤں کے قریب لگے موبائل ٹاور کی طرف گئیں اور بغیر کسی کو بتائے اس پر چڑھنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ کافی بلندی تک پہنچ گئیں جہاں سے نیچے دیکھنے والوں کے دل دہل گئے۔ جیسے ہی مقامی لوگوں نے انہیں ٹاور پر دیکھا، پورے گاؤں میں شور مچ گیا اور بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہو گئے۔

لوگ انہیں نیچے اترنے کے لیے مسلسل سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم دونوں لڑکیاں اپنی بات پر اڑی رہیں۔ وہ بار بار یہی کہہ رہی تھیں کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق شادی نہ کرائی گئی تو وہ جان دے دیں گی۔ اس صورتحال نے وہاں موجود ہر شخص کو پریشان کر دیا۔

شدید دھوپ اور گرم لوہے کے ٹاور پر یہ واقعہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ نیچے ہزاروں کی بھیڑ جمع ہو گئی اور لوگ اس منظر کو حیرت اور خوف کے ساتھ دیکھتے رہے۔ کچھ افراد نے ویڈیوز بھی بنائیں جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مہاراج گنج تھانہ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی۔ پولیس نے سب سے پہلے ہجوم کو قابو میں کیا اور ٹاور کے اطراف حفاظتی انتظامات کیے تاکہ کسی قسم کا حادثہ نہ ہو۔ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے انتہائی صبر و تحمل کے ساتھ دونوں لڑکیوں سے بات چیت شروع کی۔

کافی دیر تک سمجھانے اور اعتماد دلانے کے بعد بالآخر دونوں لڑکیوں کا غصہ کم ہوا۔ پولیس کی مسلسل کوششوں کے بعد وہ محفوظ طریقے سے ٹاور سے نیچے اتر آئیں۔ اس دوران موقع پر موجود لوگوں نے سکون کی سانس لی۔

نیچے اترنے کے بعد پولیس نے دونوں کو تھانے لے جا کر الگ الگ پوچھ گچھ کی۔ چونکہ دونوں نابالغ تھیں، اس لیے قانونی عمل کے مطابق ان کے اہل خانہ کو بلایا گیا اور ابتدائی تفتیش کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے گھر واپس بھیج دیا گیا۔

یہ واقعہ گاؤں میں دن بھر موضوعِ بحث بنا رہا۔ کچھ لوگ اسے نوجوانی کے جذباتی فیصلے سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے خاندانی دباؤ اور بہتر رابطے کی کمی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *